تابوت خودکشی کے ذریعہ موت کو گلے لگانے میں معاونت کرنے پر چار افراد گرفتار
حیدرآباد۔26؍ستمبر (نیوز ڈین) سوئٹز لینڈ میں ’خودکشی کے تابوت‘ کا پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا۔سوئٹزلینڈ پولیس نے خودکشی کرنے کے لئے تیار کردہ کیپسول(تابوت) کے پہلی مرتبہ استعمال پر کئی لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سرحدی جرمنی کے شف ہاؤزن کے شمالی کنٹن کی پولیس نے کہا کہ پیر کو میری شاؤسن کی بلدیہ میں ایک لکڑی میںنصب کیا ہوا تھا ۔پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ استغاثہ نے خود کشی کے لئے اکسانے‘ معاونت کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے پر کئی لوگوں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی ہے اور کئی لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے تاہم گرفتارشدگان یا خود کشی کرنےوالوں کی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ خودکشی کے تابوت کے پس پردہ گروپ کےایک ترجمان نے کہا کہ مہلوک ایک 64 سالہ امریکی خاتون تھی جو نظام مدافعت کے بری طرح ناکام ہوجانے کے عارضہ کا شکار تھیں۔ ایک ڈچ صحافی اور دو سوئیز لوگوں کے ساتھ گرفتار کردہ چار لوگوں میں ’دی لاسٹ ریسارٹ‘ کے بانی صدر فلوریئن ولّیٹ بھی شامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ولّیٹ واحد شخص تھا جو اس وقت وہاں موجود تھا جب خاتون نے اپنی زندگی ختم کرلی۔ ’لاسٹ ریسارٹ‘ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ولّیٹ نے موت کو ’پرسکون‘ سرعت آمیز اور باوقار ‘ قرار دیا۔اس گروپ کے ترجمان نے کہا کہ خاتون اپنی زندگی ختم کرنے سے قبل نفسیاتی تشخیص کامیاب کی تھی۔ شف ہاؤزن میں استغاثہ کے ترجمان نے تفصیلات پیش کرنے یا گرفتار شدگان کی تعداد کے چار ہونے کی توثیق کرنے سے انکار کردیا۔یہ تابوت اس طرح کام کرتا ہے کہ جب اس میں بند کیا جانے والا شخص اندر نائٹروجن گیس خارج کرتا ہے تو تابوت میں آکیسجن کی سطح بری طرح گھٹ جاتی ہے جس کے باعث تابوت کے اندر موجود ہوائی پٹیاں ’لحمات‘ موت کا سبب بنتی ہیں۔ یہ تابوت خودکشی مشہور آسٹریلوی فزیشن فلپ نشک کی ذہنی اختراع ہے۔ یہ لوگوں کو خود کشی کرنے میں مدد دینے کے لئے جانا جاتا ہے۔ سوئیزرلینڈ خودکشی میں اعانت کی وکالت کا مقناطیس رہا ہے اور لاسٹ ریسارٹ کا کہنا ہے کہ چونکہ وہاں کے قوانین اس کو قانونی بناتے ہیں اس لئے ان کا قانونی مشورہ ہے کہ اس کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔اس تابوت نے ذرائع ابلاغ کی قابل لحاظ توجہ حاصل کرلی ہے اور حکام میں یہ بحث چھڑگئی ہے کہ آیا اس طرح کے تابوت کے استعمال کی اجازت دی جانی چاہئے یا نہیں۔سوئٹزلینڈ کے وزیر صحت الزیبتھ باؤمے شنائیڈر نے پیر کو کہا کہ یہ تابوت پروڈکٹ سیفٹی قانون کی شرائط کی تعمیل نہیں کرتا اور یہ کہ نائٹروجن کا استعمال قانونی تعمیل نہیں ہے۔